مسلم میمو

اللہ ہمیں ہر رشتے کی حقیقت دکھاتا ہے

اللہ ہمیں ہر رشتے کی حقیقت دکھاتا ہے

ہمارے پاس یہ زندگی اتنی غیر یقینی ہے، کہ ہم اگلے ہی لمحے میں کیا ہونے والا ہے اس کی پیشن گوئی ہم نہیں کرسکتے ہیں۔ اور یہ ایسی چیز نہیں ہے جس سے ہمیں گھبرانا چاہئے، کیوں کہ زندگی اسی طرح کی ہی ہے۔ اس سے بہت کم توقع کرنی چاہیے اور اس کی حقیقت کو قبول کرنا، اس کو جینے کے پرسکون طریقے کی طرف واحد راستہ ہے۔

زندگی آپ کو اس حقیقت پر غور کرنے کے لئے بہت سارے لمحات فراہم کرتی ہے کہ خدا تعالٰی نے کیوں کہا کہ قرآن پاک میں دنیاوی زندگی پر توجہ نہ دی جائے۔ لیکن ہم انسان بدلے میں بہت سے لوگوں سے مایوس ہونا پسند کرتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے

اے میرے لوگو، یہ دنیا کی زندگی (چند روزہ) فائدہ اٹھانے کی چیز ہے۔ اور جو آخرت ہے وہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے

سورة غافر آیت 39

آپ سے جُڑے تعلقات

ہم انسانوں کے سااتھ قدرتی طور پر کچھ تعلقات جُڑے ہوتے ہیں اس وقت سے جب ہم ان رشتوں کے درمیان آنکھ کھولتے ہیں لیکن کچھ تعلقات وہ ہیں جو ہم لوگوں کے ساتھ خود بناتے ہیں، ان لوگوں کے ساتھ جن کو ہم کسی نہ کسی طرح پسند کرتے ہیں۔ لیکن ہم ہمیشہ ان تمام رشتوں سے خوش نہیں رہ سکتے۔ ہمیں کبھی کبھی ان کی جانب سے دکھ اٹھانا پڑتا ہے۔

لوگ دوسروں کو مایوس کرتے ہیں اور یہی حقیقت ہے، بعض اوقات ہم اتنی آسانی سے یہ بات نہیں سمجھتے ہیں۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ کسی ایسے شخص سے دل کو دکھ کیوں پہنچتا ہے جس کو ہم پسند کرتے تھے؟ جب ہم حالات کو بہتر کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں تو حالات پھر بھی کیوں ٹھیک نہیں ہو رہے ہیں؟ ہمارے رشتہ دار، ہمارے پیارے ہمارے ساتھ کیوں دھوکہ کرتے ہیں؟ ہماری زندگی کے کسی نہ کسی موقع پر ہر ایک کی حقیقت جاننا کیوں ضروری ہے؟ یہ سوالات ہمارے ذہنوں میں رہتے ہیں اور آخر کار ہمارا ذہنی سکون ختم کردیتے ہیں۔ یہ سب افراتفری ہمارے ذہن میں رہتی ہے اور اس کا جواب آسان ہے! جواب یہ ہے کہ: زندگی اس طرح ہی ہے۔ سب لوگ کبھی بھی ان کے ساتھ کی جانے والی بھلائی کی تعریف نہیں کریں گے بلکہ لوگ آپ کے ساتھ بدلے میں برا بھی کریں گے  اور آپ کو صبر کرنا ہوگا اور اللہ سے اجر لینے کی امید رکھنی ہو گی۔

حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، میرے رشتے دار ہیں جن کے ساتھ میں کوشش کرتا ہوں، قریبی تعلقات قائم رکھنے کی، لیکن وہ اس رشتے کو جھٹلا  دیتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں، لیکن وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں۔ میں ان سے پیار کرتا ہوں لیکن وہ میری طرف سخت ہیں۔ اس پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اگر ایسا جیسا آپ کہتے ہیں۔ پھر آپ حقیقت میں گرم راکھ پھینک رہے ہیں (ان کے چہروں پر) اور اللہ کی طرف سے ہمیشہ آپ کے ساتھ آپ کی حمایت کرنے والا ایک فرشتہ موجود رہتا ہے جو آپ خو ان لوگوں پر غالب رکھے گا۔ اس (راستبازی کے راستے) پر قائم رہو۔

صحیح مسلم کتاب 32، حدیث 6204

ہمارے پاس اس دنیا میں جو بھی ہے، مواد، تعلقات، رقم، سب اس لئے دیئے گئے ہیں تاکہ اللہ تعالٰی ہمارا امتحان لے سکے، اللہ خود فرماتا ہے۔

اور جان رکھو کہ تمہارا مال اور اولاد بڑی آزمائش ہے اور یہ کہ خدا کے پاس (نیکیوں کا) بڑا ثواب ہے

سورة الأنفال آیت 28

وہ لوگ جو محض لوگوں سے اپنے تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں اور ان سے وابستہ ہوجاتے ہیں، اور ان کو خوش کرنے اور ان کو برقرار رکھنے کے لئے بہت ساری غیر معمولی باتیں کرتے ہیں یقیناً وہ غلط راستے پر ہیں۔ وہ صرف ان لوگوں کو خوش کرنے میں اپنا وقت ضائع کررہے ہیں جو ان کو اپنے اصلی رنگ دکھائیں گے کسی  نہ کسی طریقے سے کیونکہ یہ حقیقت ہے اور کوئی اس سے نہیں بھاگ سکتا نہ ہی پوری زندگی اس سے انکار کر سکتا ہے۔ اللہ تعالٰی سے محبت کے علاوہ ہر محبت کو زوال ہے۔

اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں کہا ہے، اس دنیا کی کسی بھی چیز پر یقین نہ رکھیں کیونکہ سب کچھ ایک دن ختم ہوجائے گا اور صرف خدا کی ذات باقی رہے گی۔

اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے

سورة آل عمران آیت 185

ہم لوگوں کو، اللہ کے علاوہ کسی اور پر انحصار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہمارے سے جُڑے تعلقات یعنی، والدین، بہن بھائی، شریک حیات، دوست سب کسی حد تک ہی ہمارے ساتھ وفادار رہتے ہیں لیکن ہمارا حقیقی خداوند ہر وقت ہمارے ساتھ رہتا ہے جب سے اس نے ہمیں بنایا، اس وقت تک جب وہ ہمیں اپنے پاس واپس بلائے گا اور اس کے بعد کی زندگی میں بھی۔ اللہ فرماتا ہے۔

کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسول سے اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ خدا اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

سورة التوبة آیت 24

ہمیں کیا کرنا چاہئے

واضح طور پر یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ اپنے تمام تعلقات کو ترک کر دیں، غلط ہے! بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اس حقیقت کے بارے میں زیادہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جو بھی آپ کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے وہ پہلے ہی آپ کی قسمت میں لکھا ہوا ہے اور زندگی اس طرح ہی چلتی ہے۔ آپ ک دل دکھے گا، آپ بہت سارے لوگوں سے مایوس ہوں گے، آپ کو لوگوں کے تلخ لہجے دیکھنے کو ملیں گے لیکن کبھی یہ نہ سوچیں کہ یہ آپ کے ساتھ ہونے والی بری چیز ہے۔ بلکہ ہر چیز کو زندگی کے سفر کا حصہ سمجھیں اور اس سب سے گزر کے اپنے آپ کو مضبوط تر کر لیں۔ اس میں وقت لگتا ہے لیکن ایسا کرنا ناممکن نہیں ہے۔ نہ ہی آپ حقیقت کو تبدیل کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس سے لڑ سکتے ہیں لہذا حقیقت کو ظاہر کرنے والے ہر دوسرے واقعے کے ساتھ آگے بڑھنے کی پوری کوشش کریں۔ لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور باقی معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔

اللہ سے محبت کریں، جتنا ہو سکے اللہ کو خوش کرنے کی کوشش کریں۔ اس کی زیادہ سے زیادہ عبادت کریں، دوسرے لوگوں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے پر توجہ دینے سے بہتر اپنی توجہ کا مرکز اللہ کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کو بنائیں۔ کیونکہ یہ آپ کی زندگی کا سب سے بہتر کام ہوگا۔

نمایاں تصویر: فلکر

Exit mobile version