بندے کا اللہ کے ساتھ راز و نیاز
اسلام

بندے کا اللہ کے ساتھ راز و نیاز

کیا آپ کا اللہ کے ساتھ کوئی راز ہے؟ کوئی ایسا راز جو آپ اور آپ کے رب کے سوا کوئی انسان نہیں جانتا ہو؟ کوئی بھی کام جو آپ نے اپنے رب کو خوش کرنے کے لئے چھپ کر کیا تھا جس سے محض آپ اور وہ رب واقف ہے؟ آپ کا کوئی بھی ایسا عمل جو صرف اس وقت لوگوں کے سامنے آئے گا جب آپ کی نامہ اعمال کی کتاب فیصلے کے دن کھل جائے گی اور آپ کے حساب کا وقت ہوگا۔

اگر آپ کے پاس کیا ہوا ایسا کوئی عمل نہیں ہے تو اپنے خدا کے ساتھ راز رکھنا شروع کریں۔ ہم اکثر بہت سی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو ایک دوسرے کو راز کے طور پر بتاتے ہیں لیکن تصور کرتے ہیں کہ رب العالمین کے ساتھ کسی بات کو راز رکھنا کیسا ہوگا سبحان اللہ! مثال کے طور پر چھوٹے راز رکھنا، اپنے بھائی یا بہن کی دینِ اسلام سے متعلق کوئی بھی مدد کرنا، مستحق لوگوں کو خیرات دینا، مسکینوں اور غریبوں کی مدد کرنا، اللہ کی خاطر کچھ چھوڑنا وغیرہ۔ یہ وہ تمام کام ہیں جن کا راز آپ اپنے اور اپنے خالق کے درمیان رکھ سکتے ہیں۔

بنیادی طور پر کوئی بھی نیک کام کرنا جس سے کسی کو بھی آگاہی نہ ہو وہ ایک ایسا کام ہے جو خفیہ طور پر کیا جاتا ہے اور اللہ تو ویسے بھی نیک اعمال سے محبت کرتا ہے جو چھپ کر کئے جاتے ہیں۔. آج کے وقت میں، یہاں تک کہ جب لوگ نماز پڑھتے ہیں تو، لوگ اپنی جائے نماز  کی تصویر کھینچ کر اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں۔ اگر کوئی کسی غریب کو خیرات دیتا ہے تو وہ ان کے ساتھ تصاویر کھنچوا کر دوسروں کو دکھاتا ہے۔ یہ سب دکھاوا ہے جو انسان لوگوں کو دیکھانے کی نیت سے کرتا ہے اور دکھاوے کی نیکی کا بدلہ اللہ نہیں دیتا بلکہ اسے ناپسند فرماتا ہے۔

اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے

مومنو! اپنے صدقات (وخیرات)احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کردینا۔ جو لوگوں کو دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتا ہے اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ تو اس (کے مال) کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہو اور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے۔ (اسی طرح) یہ (ریاکار) لوگ اپنے اعمال کا کچھ بھی صلہ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

سورة البقرة آیت 264

مزید فرمایا

اور خرچ بھی کریں تو (خدا کے لئے نہیں بلکہ) لوگوں کے دکھانے کو اور ایمان نہ خدا پر لائیں اور نہ روز آخرت پر (ایسے لوگوں کو ساتھی شیطان ہے) اور جس کا ساتھی شیطان ہوا تو (کچھ شک نہیں کہ) وہ برا ساتھی ہے۔

سورة النساء آیت 38

قرآن پڑھنے یا اللہ کو یاد رکھنے کا بھی یہی حال ہے لیکن آپ کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جو نیک کام چھپ کر خفیا طور سے کیے جاتے ہیں وہ عوامی سطح پر کیے جانے والے اعمال سے بہترین ہوتے ہیں۔

اللہ تعالی قرآن مجید میں ایسے لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے

منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک) خدا کو دھوکا دیتے ہیں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم۔

سورة النساء آیت 142

اور سوچئے، قیامت کے روز جب ہم سب خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو جب لوگوں کو ان کے گناہوں کے بارے میں معلوم کروایا جائے گا جو انہوں نے نجی طور پر کیے تھے جبکہ آپ کو ان نیک اعمال کا پتہ چل رہا ہوگا جو آپ نے چھپ کر کیے تھے، وہ لمحہ کتنا ہی خوبصورت ہوگا۔

اللہ ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی جانب راغب کرے۔ آمین۔

حوالہ: ایمان

نمایاں تصویر: بندے کا اللہ کے ساتھ راز و نیاز

Print Friendly, PDF & Email

مزید دلچسپ مضامین