فلسطین اور اسرائیل: الاقصیٰ پر حملہ
حالاتِ حاضر

فلسطین اور اسرائیل: الاقصیٰ پر حملہ

رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے آخری جمعہ کے دن اسرائیلیوں کی جانب سے مسجد الاقصیٰ پر بھرپور حملے کے بعد سرزمینِ فلسطیں پر فسادات کا آغاز ہوا۔ عین جمعہ کی نماز کے وقت جب مسلمان عبادت میں مصروف دکھائی دیے، اسرائیلی فوج نے ان پر فائرنگ کھول دی، اور اسٹن گرینیڈ اور آنسو گیس کے کنستر فائر کئے گئے، جس کے نتیجے میں ایک سو پچاس سے زائد مسلمان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسرائیلی پولیس کا یہ مقصد تھا کہ فلسطینیوں کو دمشق گیٹ پلازہ میں، رمضان کی راتوں سے لطف اندوز نہ ہونے دیا جائے، جو پرانے شہر کے آس پاس کے کچھ کھلے علاقوں میں سے ایک ہے۔

اس واقعہ کے بعد سے فلسطین میں کیے جانے والے حملوں میں دن بہ دن اضافہ ہوتا گیا۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق وہ یہ سب اپنے بچاؤ میں کر رہیں ہیں کیونکہ ان کو خطرہ ہے کہ فلسطینی دہشت گرد ان کی قوم کو نقصان پہنچانے کے حامل ہیں۔ وہ قوم جو خود پتھر ہاتھ میں لیے اپنا دفاع کر رہی ہو کیا وہ دہشت گردی جیسے گناہ کا ارتقا کر سکتی ہے؟ بالکل نہیں! یہ سازش محض فلسطینیوں کے خلاف اس لئے ہے تاکہ یروشلم پر اسرائیل  قبضہ کر سکے اور اسلام مخالف کے طور پر یہودیوں کی حفاظت کر سکے۔

الاقصیٰ کمپاونڈ اور اسلام میں اس کی اہمیت

الاقصیٰ اسلام کا تیسرا بڑا مقدس مقام مانا جاتا ہے۔ مسلمان اس کو حرم شریف کے نام سے پکارتے ہیں کیونکہ یہ اسلام کا قبلہ اول تھا۔ یہ جگہ یروشلم میں ہے جو کہ مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے مقدس ہے۔ اس کی تعمیر آٹھویں صدی میں پوری ہوئی اور یہ ایک مکمل کمپاونڈ ہے، اس میں ایک چاندی کے گنبد والی مروانی مسجد ہے جو کہ ہیکل پہاڑ کے جنوبی حصے میں ہے، مذید اس میں (ڈوم آف رآک) جو کہ ایک سنہری گنبد ہے اور (ٹیمپل ماؤنٹ) ہیکل پہاڑ، جس کو یہودی ہارحبیت کے نام سے پکارتے ہیں۔ سنہری گنبد اسلامی مزار ہے جو یروشلم کی ایک تسلیم شدہ علامت سمجھا جاتا ہے۔ الاقصیٰ میں ٹیمپل ماؤنٹ کے بارہ دروازے ہیں جن میں سے چھ دروازے بند ہیں اور  باقی کہ چھ ٹیمپل ماؤنٹ میں کھلتے ہیں (باب الاسباط، باب العتم وغیرہ)، مسلمان الاقصیٰ کمپاونڈ کے پورے احاطے کو مقدس سمجھتے ہیں کیونکہ یہ سب چیزیں بھی حرم شریف میں شمار ہوتی ہیں، جبکہ کچھ لوگوں کے مطابق الاقصیٰ محض سنہری گنبد (ڈوم آف رآک) کو ہی سمجھتے ہیں جو کہ غلط ہے۔

مسجد الاقصیٰ، میں پانچ ہزار نمازی ایک وقت میں آ سکتے ہیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد اسلام کا تیسرا حرم مسجد الاقصیٰ ہے۔ اللہ نے قرآن مجید میں اس کا ستر مرتبہ زکر کیا ہے۔ اللہ نے قرآن میں خود مسجد الاقصیٰ کو مبارک جگہ کا مقام دیا ہے۔ یہاں کئی انبیاء کرام ، رسول علیہم السلام، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دفن ہیں۔ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کی رات مسجد الاقصیٰ سے اٹھایا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم، یونیسکو نے یروشلم کے پرانے شہر اور اس کی دیواروں کو عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر درجہ بندی دی ہے، جس کے باعث اس کو غیر معمولی بین الاقوامی اہمیت کا حامل اور اسی وجہ سے خصوصی تحفظ کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔ دیگر اس مقدس مقام کی اسلامی حیثیت کی بِنا پر اس کی حفاظت ہر مسلمان کا فرض ہے۔

تاریخ کے تنازعات

سال 1947-1949ء کی عرب-اسرائیل جنگ

سال 1947ء میں اقوام متحدہ نے جب فلسطین کو یہودی ریاست اور ایک عرب ریاست میں تقسیم کرنے کے حق میں ووٹ دیا تب فلسطینیوں عربوں اور یہودیوں کے درمیان تنازعات کا آغاز ہو گیا۔ دن بہ دن ان جھگڑوں میں اضافہ ہوتا گیا اور 1948ء میں فلسطین کے ایک گاؤں ڈیر یاسین پر حملہ تھا تاریخ کا بدترین ظلم ثابت ہوا۔ وہاں سے وحشیانہ قتل عام کی خبر بڑے پیمانے پر پھیل گئی اور خوف و ہراس اور انتقامی کارروائی دونوں شروع ہو گئی اس واقعہ میں ایک سو سات فلسطینی عرب موت کے گھاٹ اترے۔ کچھ فلسطینی عرب جنگ کے دوران ہی مارے گئے، کچھ فرار ہونے یا ہتھیار ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے مارے گئے۔ متعدد قیدیوں کو پھانسی دے دی گئی۔ قتل اور وسیع پیمانے پر لوٹ مار کے علاوہ، توڑ پھوڑ اور عصمت دری کے واقعات بھی ہوئے۔ ہلاکتوں کی تعداد بہت کم بتائی گئی لیکن کہا جاتا ہے کہ دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے، اور پچاس کے قریب زخمی ہوئے۔ انتقاماََ عربوں نے یہودیوں کے اس قافلے پر حملہ کیا جو ہدہاسہ اسپتال کی راہ پر گامزن تھا، جس کے نتیجے میں اٹھتر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ جنگ دو سال تک جاری رہی اور 1948ء میں اسرائیل نے آزادی کا اعلان کیا۔ جس کے نتیجے میں عراق، شام، مصر، لبنان اور اردن نے جنوبی اور مشرقی فلسطین کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ مشرقی یروشلم پر بھی قبضہ ہو گیا، جس میں چھوٹا یہودی کوارٹر بھی شامل تھا۔ اقوامِ متحدہ نے یہودیوں کو فلسطین کی پچپن فیصد زمین کا حقدار ٹہرایا جس میں فلسطینی عرب اکثریت والے اہم شہروں میں رہتے تھے، اور حائفہ سے جعفا تک اہم ساحل پٹی بھی شامل تھی۔ یہودی اس زمین کو الگ ملک، اسرائیل بنانا چاہتے تھے لیکن اسرائیل کے عرب ہمسایہ ممالک نے نئی ریاست کو تباہ کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ لیکن اسرائیل اپنے لیے لڑتے رہے اور بالکل ہار نہ مانی اور مصری فوج کو بھگا دیا۔ اسرائیل نے اپنی بے نقاب اسٹریٹجک پوزیشن کو بہترین بنانے کے لئے بہت جدوجہد کی۔ اپنی فوجی خدمات کو بہتر بنانے کی ہر ممکنہ کوشش کی۔

سال 1947ء میں فلسطین کے لئے اقوام متحدہ کے پارٹیشن پلان میں بیان کردہ حدود

فلسطینی 1948ء کو تباہی کہتے ہیں۔ سات لاکھ، پچاس ہزار فلسطینی فرار ہوگئے یا انہیں اسرائیل بننے والی سرزمین سے بے دخل کردیا گیا، اور انہیں کبھی بھی واپس اپنے ملک جانے کی اجازت نہ ملی۔ ان کے لیے اسرائیلی ریاست کے ہاتھوں شکست ایک زلزلہ زدہ سیاسی لمحہ تھا جس کی وجہ سے برسوں کی ہلچل مچ گئی۔ وہ خود سیاسی کمزوری کے باعث اپنا ملک کا بہت بڑا حصہ کھو بیٹھے۔

سال 1967ء کی چھ روزہ جنگ

سال 1967ء میں اسرائیل، اردن، شام اور مصر کے درمیان پھر سے جنگ ہوئی جو 5 سے 10 جون تک جاری رہی۔ یہ عرب اور اسرائیل کے مابین تیسری بڑی جنگ مانی جاتی ہے۔ اسرائیل کے ہمسایہ ممالک نے ایک بار پھر ملک کو برہم کر کے اس پر قبضہ کرنا چاہا۔ لیکن اسرائیلی ڈٹے رہے اور تین دن کے اندر انہوں نے زمین پر ایک زبردست فتح حاصل کرلی، جس میں غزہ کی پٹی اور جزیرہ نما سینا کے تمام حصے کو نہر کے مشرقی کنارے تک اپنی گرفت میں لے لیا اور اپنے ملک کو درہم ہونے سے بچا لیا۔ اس چھ روزہ چلنے والے تنازعہ میں عرب ممالک کے نقصانات تباہ کن تھے۔ اسرائیل کے محض سات سو لوگ جان کی بازی ہار گئے لیکن مصر کی ہلاکتوں کی تعداد گیارہ ہزار سے زائد ہے، اردن کی چھ ہزار اور شام کی ایک ہزار ریکارڈ کی گئی۔ شکست کی یکسوئی نے عرب عوام اور سیاسی اشرافیہ دونوں کو مایوسی کا نشانہ بنایا۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین تنازعہ میں چھ روزہ جنگ نے ایک نئے مرحلے کا آغاز بھی کیا، چونکہ اس تنازعہ نے سیکڑوں ہزاروں مہاجرین کو منطر پر لایا اور اسرائیلی حکمرانی میں مقبوضہ علاقوں میں ایک ملین سے زیادہ فلسطینیوں کو در بدر کیا گیا۔ جنگ کے  بعد، اقوام متحدہ نے قرارداد منظور کی، جس میں اسرائیل کو پائیدار امن کے بدلے جنگ میں قبضہ کرنے والے علاقوں سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اس کے باعث اسرائیل ان علاقوں پر قابض رہا۔

ان تنازعات کے باعث فلسطین رفتہ رفتہ اپنی زمین اسرائیل کے ہاتھوں گنواتا گیا۔ اقصیٰ کمپاونڈ یروشلم کا اہم مرکز ہے۔ اسرائیل اور فلسطین دونوں نے اسے اپنا دارالحکومت قرار دیا ہے۔ 1980ء میں، اسرائیلی پارلیمنٹ نے یروشلم کو ملک کا دارالحکومت قرار دیا، جبکہ فلسطینی حکومت نے 2000ء میں فلسطینی اتھارٹی کے منظور کردہ ایک قانون کے ذریعہ یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دیا تھا۔ فلسطینی اعلان آزادی جو 1988ء میں ہوا اس میں بھی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت کہا گیا۔ الاقصیٰ پر تنازعہ کی یہی وجہ رہی ہے کہ اسرائیل ہمیشہ سے اس جگہ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور ماضی میں بھی اس قسم کے فسادات قائم کئے گئے تاکہ فلسطینی اس جگہ کو چھوڑ دیں۔ اب بھی حالیہ منظر دیکھا جائے تو فلسطین کے پاس غزہ کا کچھ حصہ اور یروشلم کا بھی بیت مخصوص حصہ باقی رہ گیا ہے۔ اور الاقصیٰ پر موجودہ حملے کا سبب اسرائیل کی قبضہ کرنے کی لالچ ہے اور کچھ نہیں۔

 

موجودہ حالات

غزہ میں اسرائیل کی مسلح افواج نے اس تنازعہ میں کئی بچے ہلاک اور سیکڑوں زخمی کیے۔ کئی لوگ رات کو سوئے اور صبح کا سورج نہ دیکھ پائے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے حماس کے عہدیداروں کو خاص طور پر نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتارا۔

ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے فرار ہوچکے ہیں، اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکولوں میں پناہ مانگ رہے ہیں یا غزہ کے کچھ حصوں میں چھپ کر اپنی زندگی کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔ یہ وہ سرزمین تھی جہاں لوگ سکون سے رہ رہے تھے لیکن اب سیکڑوں خاندان مکمل طور پر اپنے گھروں سے محروم ہوچکے ہیں اور ان کے گھر مٹی کے ڈھیر اور ملبے کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ بچوں نے اپنے والدین، ماں، باپ نے اپنی اولاد، بھائیوں نے اپنی بہنیں اور بہت سے لوگوں نے اپنے عزیز رشتے حملوں کی نزر ہوتے دیکھے ہیں۔

غزہ، ایک چھوٹا سا ساحلی علاقہ جو صرف پچیس میل لمبا ہے اور سات میل چوڑا ہے بحیرہ روم کے مشرقی ساحل کے ساتھ اسرائیل اور مصر کے مابین واقعہ ہے، جو کہ فلسطینی اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں ہے۔ 2007ء کے بعد سے غزہ بے شمار طریقوں سے ایک اسلامی تنظیم حماس کی حکومت ہے۔ یہ علاقہ گنجان آباد ہے، جس میں تقریباََ بیس لاکھ افراد آباد ہیں اور یہ دیواروں سے گھرا ہوا ہے، جہاں چاروں جانب دھماکوں کی خوفناک آوازیں گونجتی ہیں اور وہاں موجود ہر شخص خوف سے لرزتا ہے کہ کب اس پر ہونے والا حملہ اس کا اس دنیا میں آخری لمحہ ہوگا۔

حماس کے عسکریت پسندوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان ہونے والا ظلم نو دنوں تک جاری رہا۔ غزہ میں موجود نو ہسپتال اور کلینک کو توڑ پھوڑ کا شکار کیا گیا۔ وہاں موجود ایک ہی کورونا وائرس ٹیسٹ کی لیبارٹری کو بھی تباہ کردیا گیا۔ شہر میں تمام سیوریج لائنز کو توڑا گیا۔ اور مکمل طور پر تسلی کی گئی کہ شہر میں موجود کوئی بھی چیز سلامت نہ رہ سکے۔ پینے کے صاف پانی والے یونٹس کو تباہ کر دیا گیا، درجنوں اسکولوں کو نقصان پہنچا کر بند کروا دیا گیا، لوگوں کو مارا گیا، گرفتار کیا گیا، جارہانہ ظلم کا نشانہ بنایا گیا، معصوم، کم سِن بچوں پر گولیاں چلائی گئی، عورتوں کی عزت لُوٹی گئی اور دنیا میں ہونے والے مظالم میں تاریخ رقم کی گئی۔ اسرائیل نے فلسطین پر دس سے اٹھارہ مئی کے دوران تقریباََ تین ہزار چار سو چالیس راکٹ فائر کیے جن کے باعث ڈھائی سو سے زائد افراد موت سے جا ملے۔ غزہ میں ہونے والی تباہی اور جانوں کے ضیاع کی وجہ انسانیت پر ظلم، نسل کشی اور استعمار ہے۔

اس سب کے بعد فلسطینی تقسیم ہو کر رہ گئے ہیں، وہ منتشر ہیں اور مایوسی کا شکار ہیں، اور اسرائیل ان کی پیش کردہ ہر شرائط پر پابندی لگائے جا رہے ہیں۔ فلسطینیوں کو سیاسی طور پر تقسیم کیا جاسکتا ہے، لیکن چاہے وہ مغربی کنارے میں ہوں، یروشلم، غزہ، یا پھر اسرائیل کے اندر ہی کیوں نہ رہ رہے ہوں، وہ تصرف اور قانونی امتیازی سلوک کے تابع ہیں جو یہودی اکثریتی ریاست بناتی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ ملک پہلے بھی فلسطینیوں کا تھا جنہوں نے اسرائیلی قوم کو انسانیت کی بنا پر رہنے کے لئے دیا تھا اور ایک بار پھر انشاللہ یہ زمین فلسطینیوں کو واپس ملے گی۔ ملک کے ہر چھوٹے، بڑے حصے میں ہونے والے مظاہروں کے ذریعہ ان کے تصرف کے خلاف مزاحمت کے اتحاد کی مثال دیکھی جا سکتی ہے۔

عارضی جنگ بندی

اسرائیل کی جانب سے عارضی جنگ بندی کا اعلان جمعہ کے روز کیا گیا۔ اسرائیل پر، واشنگٹن اور دیگر غیر ملکی دارالحکومتوں سے فضائی حملوں اور راکٹ فائر کو روکنے کے لئے دباؤ بڑھتا گیا چونکہ شہریوں کی ہلاکتوں میں لمحہ با لمحہ اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ مصری عہدیداروں نے حماس کی قیادت کے ساتھ بات چیت میں پیش قدمی کی ہے، اور اسرائیلی فوج نے نجی طور پر اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے قریب ہیں لیکن دیگر ممالک جیسے ترکی، روس، پاکستان، قطر، مصر اور ملائشیا کے دباؤ کے باعث اسرائیلیوں کو عارضی طور پر جنگ روکنا پڑی۔ لیکن یہ خدشات ظاہر ہوتے ہیں کہ دونوں فریقین اصولی طور پر جنگ بندی پر راضی ہونے کے بعد بھی، صورتحال کو مشتعل کرسکتے ہیں۔

مین سٹریم میڈیا کا کردار

اسرائیل نے جب الاقصیٰ کمپاونڈ پر حملہ کیا اور اسی کے ساتھ جب غزہ کے ساحلی علاقے پر بمباری کی، تو فلسطینی عسکریت پسندوں نے جاوباََ اسرائیل پر چار سو راکٹ پھینکے۔ اسرائیلی شہروں میں بسنے والے یہودیوں کی نفرت میں اضافہ ہوتا گیا اور اسی کے ساتھ یہ مناظر ویڈیو اور تصاویر کے ذریعہ مین سٹریم میڑیا پر تہلکا مچانے لگے۔ نوجوان فلسطینیوں نے سوشل میڈیا فیڈ سے دنیا بھر میں ان حالات کو متعارف کروایا جس کے باعث دنیا بھر میں غم و غصہ بھڑک گیا۔

فلسطین کے حامی لوگوں کی آوازوں نے اس دہشت گردی کو نا قابلِ منظور ٹہرایا اور ملک گیر احتجاجوں کا سلسلہ شروع کیا۔ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر لوگوں نے اپنے ممالک کی حکومت تک یہ پیغام پہنچایا کہ اس قسم کے ظلم کو ختم کروایا جائے اور اسرائیل سے بائیکاٹ اور باقاعدگی سے تشدد کے واقعات کی وجہ سے فلسطینیوں پر کیے جانے والے مظالم کو روکا جا سکے۔

 

افسوس اس بات کا ہے کہ بہت سے لوگوں نے ان حالات کو اسلام کے خلاف مذہبی دشمنی اور مسلمانوں کے خلاف ہونے سے منسلک کیا جبکہ اس واقعہ کو انسانیت کی بنا پر بھی دیکھنا کسی حیرت انگیز بات کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان ہونے والی اس نسل کشی اور استعمار کو سوشل میڈیا ایپس، ٹویٹر، فیس بک، انسٹا گرام، ٹک ٹوک اور دیگر جگہوں پر غلط معلومات کے ساتھ پھیلایا گیا۔

اس اثنا میں ایسی ویڈیوز بھی منظرِ عام پر آئیں جن میں 2018ء میں ہونے والے حملوں کی کووریج کی گئی اور اسرائیل کی جانب سے یہ باور کروایا گیا کہ یہ تنازعات فلسطین کی جانب سے شروع کیے گئے ہیں جبکہ یہ ویڈیو غلط معلومات کا صرف ایک ٹکڑا ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، اور اسرائیلی فوج نے جمعہ کے اوائل میں غزہ پر جب حملہ کیا تو اس سارے واقعہ کے مناظر سوشل میڈیا پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس غلط معلومات کا اثر ممکنہ طور پر مہلک ہوا، اور اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مابین کشیدگی مذید پھیلتی چلی گئی۔ آور اسرائیلیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ انہوں نے فلسطین پر حملہ اپنے دفاع میں کیا ہے۔

مذید براں، ٹویٹر اور فیس بک اور انسٹاگرام کے مالک نے اس موقع پر خاموشی اختیار کرنے کو بہتر سمجھا۔ تبصرہ کرنے والی درخواستوں کا جواب نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اہپس پر پوسٹ کرتے ہوئے اس بات کی حدود ڈال دی ہے کہ لوگ غلط معلومات کو نہ پھیلا سکیں، اس طرح کی چیزوں کو دور کرنے، تشدد اور دیگر مواد کو انٹرنیٹ سے ہٹانے کی کوششوں کے لئے تیزی سے کام ہو رہا ہے اور جو بات ہماری کمیونٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرتی ہے، ان سب کو بھی ہٹا دیا جائے گا۔ بہت سے کارکنوں نے بتایا کہ ان کی پوسٹوں کو ہٹایا جارہا ہے۔ بڑے پیمانے پر اکاؤنٹس کو بھی معطل کردیا گیا۔ سوشل میڈیا پر فلسطینیوں کے احتجاج کی واضح سنسرشپ مہینوں طویل مہم کا ایک اور باب ہے جس میں فیس بک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ صہیونیت مخالف تنقید کو سامی مخالف نفرت انگیز تقریر کے طور پر نہ ظاہر کرے۔ اسرائیل کے بہت سارے گروہ فلسطین کے بارے میں بحث کو بند کرنے کے لئے یہود دشمنی کے خالی الزامات کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم یہ احکام فلسطینیوں کی آواز دبانے کا کام کرنے لگے۔ چونکہ اسرائیل کی باربریت کا نشانہ بنتے ہوئے معصوم فلسطینی، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دکھائے جانے والے پوسٹس کی معیار پر پورا نہیں اترتے۔

نتیجہ

چاہے یہ حل دو ریاستوں پر مبنی ہو یا کسی ایک پر، دونوں لوگوں کے لئے حقوق کی مطلق مساوات کو یقینی بنانا ہوگا، بشمول اجتماعی، قومی اور سیاسی حقوق کے ساتھ ساتھ مذہبی، املاک اور شہری حقوق۔ جب تک کہ امریکہ اس اصول کو قبول نہیں کرتا ہے اور امریکی قراردادوں کو نافذ کرنے کے لئے کام نہیں کرتا ہے، یروشلم یا اسرائیلی نوآبادیات میں یہ تنازعات ختم نہیں ہو سکتے۔ امریکی ہتھیاروں کے روک تھام سے اسرائیلی فوجوں کو دفاعی استعمال اور خیراتی مال کی جانب سے نقصان اٹھانا پڑھ سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ اپنی حیثیت سے متعلق قوانین کو بھرپور طریقے سے نافذ نہیں کرتا ہے لہذا اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان اس باربریت کو ختم کیا جا سکتا ہے لیکن اگر معاہدہ پر دونوں فریقین راضی ہوں اور دونوں کو منصفانہ طور پر آزاد قرار دے دیا جائے۔

یہ صہیونی آباد کار استعمار ہے، جہاں اگر اسرائیلی گروہ فلسطینیوں کے خلاف مظاہرہ نہیں کرتے ہیں، آج اگر یہ ختم ہو بھی جائے تو کل کو ایک نئی صورت میں سامنے آ جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کب تک اس ناانصافی پر خاموش رہے گی اور ان معصوم جانوں کے نقصان پر آنکھیں بند رکھے گی۔ فلسطینی اپنے ملک میں رہتے ہوئے بھی غلاموں جیسی زندگی بسر کر رہے ہیں، وہ نہیں جانتے کے کب کونسا لمحہ ان کہ سانس ان سے چھین لی جائے گی۔ وہ سوال پوچھتے ہیں کہ آخر اس دنیا میں ان کی آزمائش کب ختم ہوگی اور اقوامِ متحدہ اس ظلم پر خاموش کیوں ہے؟ ماضی میں ہونے والی امن پرستی جس میں بحرین، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کر لیے، اس نے بھی مذید فلسطینیوں کے ساتھ مظالم میں اضافہ کیا۔ موجودہ استعمار میں بھی، اسرائیلیوں کے ساتھ یہ اور دیگر ممالک ساتھ تھے جس کے باعث فلسطینی پسپاں ہو کر رہ گئے۔

ہمیں ہر صورت اس مسلے کو محض اسلامی مخالفت ہی نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف اور نسل کشی سمجھ کر یکجہتی دکھانے کی ضرورت ہے۔

تصاویر حوالہ جات

مسجد الاقصیٰ: پکسابے

فلسطیں کے حق میں مظاہرے: فلکر

نقشے: ویکیمیڈیا کامنس

نمایاں تصویر: پکسابے

Print Friendly, PDF & Email

مزید دلچسپ مضامین