مسلم میمو

حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه کی زندگی سے سبق

حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه کی زندگی سے سبق

اکثر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمودات کو دیکھنے میں جلدی کرتے ہوئے ہم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ یہ خاص حدیث کس نے بیان کی ہے۔ اکثر اوقات اگر ہم غور سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ابو ہریرہ رضی الله عنه نے اس حدیث کو بیان کیا ہے۔ مسلمان ہونے کے بعد آپ رضی الله عنه نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ گزارا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه کی زندگی سے نوجوان مسلمانوں کے لئے واقعی بہت سے اسباق ہیں۔

والدین سے محبت

اصل میں قبیلہ داؤس سے تعلق رکھنے والے ابو ہریرہ رضی الله عنه کو الطفیل بن عمرو الداؤسی کی کوششوں سے اسلام کے بارے میں معلوم ہوا۔ ان کے والد سے متعلق کوئی معلومات واضح نہیں ہیں۔ ہم ان کی ماں کے بارے میں یہ جانتے ہیں کہ وہ انہیں اپنے ساتھ مدینہ لے آئے، جب انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہنے کا فیصلہ کیا۔ یہ بذات خود ایک اہم نکتہ ہے۔ اکثر ہماری جوانی کی مثالیت اور آزاد ہونے کی خواہش سے متاثر ہو کر ہم اپنے بارے میں سوچتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہم اپنے والدین سے کیسے دور جائیں اور ان کی دیکھ بھال کے بوجھ سے آزاد ہو جائیں۔

تاہم ابو ہریرہ رضی الله عنه اپنی ماں کو اپنے ساتھ لے آئے، وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتے تھے اور بڑھاپے میں ان کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ الباشا ابو ہریرہ رضی الله عنه اور ان کی والدہ سے متعلق ایک خاص طور پر دل کو چھو لینے والا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ ابو  ہریرہ رضی الله عنه نے اپنی ماں کو اسلام کے بارے میں سچائی پر قائل کرنے کے لئے مختلف اوقات میں بیکار کوشش کی۔ جب وہ غصے میں آجاتیں اور ان سے منہ موڑ لیتیں تو وہ اپنی ماں کو ہراساں نہیں کرتے تھے بلکہ غم سے بھر کر چلے جاتے تھے۔

ایک بار ان کی والدہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں بہت ظالمانہ بات کہی تو وہ روتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان کی ماں کے دل کو اسلام کی طرف مائل کر دیں۔ اس دن کچھ دیر بعد جب ابو ہریرہ رضی الله عنه گھر واپس آئے تو وہ اپنی ماں کو شہارت (ایمان کی گواہی) کہتا دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔

نیک لوگوں کی صحبت سے محبت

مدینہ پہنچنے پر ابو ہریرہ رضی الله عنه کا ایک ہی مقصد تھا اور وہ تھا کہ نیک لوگوں کی صحبت میں رہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ نیک کون ہو سکتا ہے۔ کسی نئے شہر میں پہنچنے پر کوئی بھی رہنے کی جگہ تلاش کرنے، کام کرنے کی جگہ تلاش کرنے اور دوستوں کی صحبت تیار کرنے کے بارے میں فکر مند ہوسکتا ہے۔ تاہم ان کی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہنے کی خواہش اتنی مضبوط تھی کہ انہوں نے اپنے زیادہ تر لمحات نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں گزارے۔ ابو ہریرہ رضی الله عنه نے آج کل کہ بہت سے لوگوں کے برعکس وقت گزارا- مشاہدہ کرنا، ذہنی خاکے بنانا اور اپنی آنکھوں کے سامنے آنے والے واقعات، الفاظ اور اعمال کو لفظی طور پر یاد کرنا۔ ان کے اپنے الفاظ میں، ہم نے ان کے سیکھنے اور صادقوں کی صحبت میں رہنے کے لئے ان کی محبت کے بارے میں پڑھا

ہمارے مہاجرین بھائی تو بازار کی خرید و فروخت میں لگے رہتے تھے اور انصار بھائی اپنی جائیدادوں میں مشغول رہتے اور ابوہریرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جی بھر کر رہتے (تاکہ آپ کی رفاقت میں شکم پری سے بھی بےفکری رہے) اور (ان مجلسوں میں) حاضر رہتے جن (مجلسوں) میں دوسرے حاضر نہ ہوتے اور وہ (باتیں) محفوظ رکھتے جو دوسرے محفوظ نہیں رکھتے تھے۔ (البخاری 3:118)

پیٹ بھرنے کی بات پر اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ابو ہریرہ رضی الله عنه نے اپنی کم تر خواہشات کو دبانے کے فن کو اس حد تک مکمل کیا کہ وہ اکثر مدتوں تک بھوکے رہتے تھے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی فوری صحبت کو ترجیح دیتے تھے اور مطمئن رہتے تھے کہ آیا انہیں کھانے کے لئے کچھ ملا یا نہیں۔

ایک بار ابو ہریرہ رضی الله عنه نے خود بیان فرمایا

میں اپنا پیٹ بھرنے کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جاتا تھا۔ اور یہ اس وقت کی بات ہے جب میں پکی ہوئی روٹی نہیں کھاتا تھا اور نہ ریشم پہنتا تھا۔ نہ کوئی مرد اور نہ کوئی عورت غلام میری خدمت کرتا تھا اور میں اپنے پیٹ پر پتھر باندھتا تھا اور کسی سے کہتا تھا کہ وہ میرے لئے قرآنی آیت پڑھے حالانکہ میں جانتا تھا تاکہ وہ مجھے اپنے گھر لے جائے اور مجھے کھانا کھلائے۔ جعفر بن ابی طالب غریبوں پر بہت مہربان تھے اور وہ ہمیں لے جاتے تھے اور جو کچھ ان کے گھر میں دستیاب تھا اس سے ہمیں کھلاتے تھے (اور اگر کچھ دستیاب نہ ہوتا تو وہ ہمیں خالی (شہد یا مکھن) کھال دے دیتے تھے جسے ہم پھاڑ کر چاٹ لیتے تھے جو کچھ اس میں ہوتا تھا۔  (بخاری 65:343)

شاید ہمارے اپنے پڑوس میں کوئی ایسا شخص ہے جو علم حاصل کرنے پر اتنا مرکوز ہوسکتا ہے کہ وہ کھانا برداشت کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ بجائے اس کے کہ ہم اس کی مدد کریں یا اسے کھانا کھلائیں یا اس کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں، ہم اس کا مذاق اڑانے کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور مشورہ دیتے ہیں کہ وہ جاکر اپنا پیٹ پالنے کے لئے کام کرے۔ اگلی بار جب ہم اس انداز میں سوچیں تو سب سے پہلے ابو ہریرہ رضی الله عنه جیسے ساتھیوں کی یاد پر غور کرنا چاہیے۔

کس چیز نے انہیں اس بات کو یقینی بنانے کا اتنا خواہش مند کیا کہ دوسروں کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے فائدہ پہنچے؟ ان کے اپنے الفاظ میں

لوگ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بہت حدیثیں بیان کرتے ہیں اور (میں کہتا ہوں) کہ قرآن میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں کوئی حدیث بیان نہ کرتا۔ پھر یہ آیات پڑھیں

جو لوگ ہماری اتاری ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجودیکہ ہم اسے اپنی کتاب میں لوگوں کے لئے بیان کرچکے ہیں، ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔ مگر وه لوگ جو توبہ کرلیں اور اصلاح کرلیں اور بیان کردیں، تو میں ان کی توبہ قبول کرلیتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے والا اور رحم وکرم کرنے والا ہوں۔ (سورۃ البقرۃ آیت 159-160)۔ (البخاری 3:118)

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہنے کے نتیجے میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ براہ راست بات چیت کا فائدہ اٹھانے والے تھے۔ الباشا بیان کرتے ہیں کہ ایک بار جب صحابہ دعا کر رہے تھے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے ساتھ شامل ہو گئے تھے۔ جب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی باری آئی تو انہوں نے دعا کی

اے اللہ! میں آپ سے وہ سب مانگتا ہوں جو میرے ساتھیوں نے مانگا ہے اور میں آپ سے علم مانگتا ہوں جسے میں کبھی نہ بھولوں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دعا پر آمین کہا۔ (الشوکانی)

ان کے اپنے الفاظ میں، ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے علاوہ مجھ سے زیادہ کوئی حدیث بیان کرنے والا نہیں ہے۔ مگر وہ لکھ لیا کرتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔

بے شک الباشا کے مطابق ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار چھ سو سے زائد احادیث کو یاد کیا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مستند اقوال و اعمال کی ترسیل کے طور پر کتب حدیث میں سب سے زیادہ نیک مقام حاصل کیا۔

حتمی خیالات

علم کی دولت کے بارے میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے جس سے پچھلی نسلوں، موجودہ نسل اور آنے والی نسلوں میں مسلمان ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی تعلیمات کو یاد کرنے اور محفوظ رکھنے کی کوششوں کی وجہ سے مستفید ہوئے ہیں

قرآن اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے ہمارا اپنا تعلق کیا ہے؟

ہم علم کے ذرائع کے کتنے قریب ہیں؟

ہم کون سی قربانیاں دیں تاکہ ہم سیکھ سکیں اور جو کچھ سیکھتے ہیں اس کا اطلاق کریں؟

ہمارے والدین کے ساتھ ہمارا کیا تعلق ہے؟

اگر یہ مضبوط نہیں ہے تو کیا ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اسے مضبوط بنانے میں ہماری مدد فرمائیں؟

یہ اور بہت سے اسباق ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی زندگی سے سیکھے جا سکتے ہیں۔

آخر میں اگرچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے حدیث کی ہر ترسیل اہم ہے لیکن ان میں سے ایک خاص طور پر اہم ہے کیونکہ اس کی ترسیل کے ذریعے ہمیں ایک ایسی بات کے بارے میں معلوم ہوا جو ہمیں اس کے برعکس کبھی معلوم نہ ہوتی۔ آپ اپنی سہولت کے مطابق مکہ سے اباسینیا جانے والے ابتدائی پناہ گزینوں کو اباسینیا کے بادشاہ نجاشی کی طرف سے دیئے گئے محبت بھرے اور خوش آمدید استقبال کے بارے میں پڑھیں۔ اگر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو ہمیں کبھی معلوم نہ ہوتا کہ نجاشی نے انتقال سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کے نجاشی کی وفات کی خبر دی اسی دن جس دن ان کا انتقال ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے لیے خدا سے مغفرت چاہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدگاہ میں صف بندی کرائی پھر ( نماز جنازہ کی ) چار تکبیریں کہیں۔ (البخاری 23:412)

عبدالرحمن کی زندگی کتنی شاندار تھی جنہیں ہم ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے نام سے جانتے ہیں۔

نمایاں تصویر: حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنه کی زندگی سے سبق

Exit mobile version