اسلام کی روشنی میں والدین کے حقوق 
معاشرہ اور ثقافت

اسلام کی روشنی میں والدین کے حقوق 

جب ہم سے ان لوگوں کے بارے میں پوچھا جاتا ہے جنہوں نے ہمارا خیال رکھا اور ہماری پرورش کی تو ہم فوری طور پر اپنے والدین کے بارے میں سوچتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہماری مدد کی جب ہم کمزور تھے اور صبر سے ہمیں سب کچھ سکھایا۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ان کے بغیر ہم وہ نہیں ہوں گے جو آج ہیں۔ اسلام میں والدین کے حقوق کیا ہیں؟ اس مضمون میں ہم اس سوال کے جوابات پر بات کریں گے۔

اسلام میں والدین کے حقوق

اسلام نے والدین کو ایک بلند مقام دیا ہے۔ اسلام میں اپنے والدین کی عزت کرنا بہت ضروری ہے۔ مسلمانوں پر ضروری ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ بہترین سلوک کریں۔ آپ کے والدین آپ کے پہلے استاد ہیں۔ ان کے ساتھ محبت اور احترام سے پیش آنا دنیا اور اخرت میں آپ کی کامیابی کا سبب بنتا ہے۔

سورہ لقمان کی چودھویں آیت میں ہے

اور ہم نے انسان کو جسے اُس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہہ کر پیٹ میں اُٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور( آخرکار) دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔

والدین اپنے آپ میں ہمارے لیے اللہ کی نعمت ہیں۔ سورہ اسریٰ کی تئیسوی آیت میں اللہ فرماتا ہے

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا۔

درحقیقت اپنے والدین کا احترام کرکے ہی ہم اپنی زندگی میں کامیابی کی توقع کر سکتے ہیں۔ عاجزی اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ ہے۔ جب ہمارے والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم صبر سے ان کی مدد کریں، جیسے وہ اس وقت صبر کرتے تھے جب ہم اپنے بچپن میں غلطیاں کرتے تھے۔ اپنے والدین کی اطاعت اور احترام کا شمار اسلام کے قابل تعریف اعمال میں ہوتا ہے۔

سورہ نساء کی چھتیسویں آیت کے مطابق

اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔

نتیجہ

ہمارے والدین نے ہمارے لئے اتنا کچھ کیا ہے کہ ہمارے لئے ان کا بدلہ چکانا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے بہت کچھ کیا اور اپنی خواہشات کی قربانی دی، لیکن ایک بار بھی ہماری خواہشات پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

اللہ انہیں جنت میں اعلیٰ ترین درجہ عطا فرمائے۔ ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمارے والدین کو برکت دے اور ہم سب کو ان کے ساتھ احترام کرنے والا اور فرمانبردار ہونے کی ہدایت دے۔ ہماری دعائیں ہمارے والدین کی خیر کے لیے ہونی چاہیے جیسا کہ سورہ اسریٰ کی چوبیسوی آیت میں ہے

اے میرے رب! ان دونوں پر رحم کر جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پالا۔

نمایاں تصویر: اسلام کی روشنی میں والدین کے حقوق 

Print Friendly, PDF & Email

مزید دلچسپ مضامین