خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش
تصاویر

خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کی عظیم قربانی کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے ہی بیٹے کی قربانی دینے پر آمادگی ظاہر کر کے اللہ کے حضور اپنا مقام بڑھا لیا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بچپن سے ہی اپنے باپ دادا کے مذہب پر یقین نہیں کرتے تھے۔ ان کو ہمیشہ سے حق کی تلاش تھی اور وہ بغیر کسی وجہ کے کسی کے روحانی پہلو سے متحد ہونا چاہتے تھے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کی عبادت کرنے کے خلاف آواز اٹھائی اور لوگوں کو یہ ثابت کر دکھایا کہ یہ بے جان بت کسی کی تو کیا اپنی بھی حفاظت نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کی زندگی میں ہونے والے اس قسم کے واقعات ان کے اعتماد کو اجاگر کرتے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے عقائد کی حمایت کرنے کی ایک وجہ ہے، اور اس لئے انہیں خوفزدہ کرنے والی کوئی چیز نہیں ہے۔

جب ہم عید الاضحی کے قریب پہنچتے ہیں تو، ایک واقعہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اللہ کے لئے سب سے بڑی قربانی دینے کی خواہش کی یاد دلاتا ہے۔ عید الاضحی کے تہوار کی حقیقت کو پہچانتے ہوئے، ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے پیچھے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کتنی بڑی قربانی دی ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی قربانی

اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی بیوی کو ایک بچے سے نوازا جن کا نام ان دونوں نے اسماعیل رکھا۔ کچھ ہی عرصے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے خاندان، اسماعیل اور ان کی ماں کو لے کر مکہ کی طرف چلے گئے۔ اللہ کے حکم کے مطابق انہوں نے انہیں صحرا میں تھوڑا سا کھانا اور پانی دے کر چھوڑ دیا۔خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش

ایک رات سوتے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی دے رہے ہیں۔ صبح بےچینی کے عالم میں انہوں نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو اپنے خواب کے بارے میں بتایا۔ یہ جانتے ہوئے کہ نبیوں کا خواب اللہ کا حکم ہوتا ہے، حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد کو تاکید کی کہ وہ یہ کام سرانجام دیں  کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ اس طرح کی اطاعت اور اللہ کے لئے اپنے آپ کو قربان کرنے کی آمادگی اور اللہ پر ایمان واقعی بے مثال ہے جس کو قرآن یوں بیان کرتا یےخلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش

قربانی کی کوشش سے پہلے، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لی کہ کہیں ایسا نہ ہو، ان کا دل یہ کرتے ہوئے کمزور پڑھ جائے۔ اس کے بعد انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو زمین پر گرا دیا اور چاقو اپنے بیٹے کے گلے پر رکھ دیا۔خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش

اس عمل کو سرانجام دینے سے پہلے ہی اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانب وحی بھیجی اور ان کو آگاہ کیا کہ ان کی قربانی اللہ کی بارگاہ میں قبول ہو گئی ہے اور وہ اس آزمائش میں کامیاب ہو گئے ہیں۔خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کی جانب سے قربت حاصل ہوئی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ بھیڑیے نے لے لی۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی بجائے بھیڑیے کو ذبح کیا۔خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش

چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کو اللہ نے سب کے درمیان یاد رکھا۔ اس قربانی کی یاد میں ہر سال مسلمان عید الاضحی پر میمنے، بکریاں، مینڈھے یا اس طرح کے دیگر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔ اس کے بعد گوشت غریبوں کو دیا جاتا ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ جانوروں کی یہ قربانی ہمیں صرف ہمارے ارادوں سے فائدہ دیتی ہے۔ بلکہ یہ ہماری راستبازی اور پرہیزگاری ہے جو ہمیں فائدہ پہنچاتی ہے۔ یہ اشارہ قربانی دینے کی رضامندی کی علامت ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ہےخلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش

اللہ تعالی قرآن مجید میں خود حضرت ابراہیم علیہ السلام پر سلام بھیجتے ہیں۔خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ لازوال قربانی دے کر اپنے آپ کو خدا کی عدالت میں سرخرو کر دکھایا اور اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہو گئے اور اللہ نے ان کو خوب نوازا۔خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش

اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے نیک و کار اور ایماندار بندوں میں سے قرار دیا اور اپنے من پسند انعامات سے نوازا۔خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش

قربانی کا تصور دیگر مذاہب میں بھی دیکھا جاتا ہے لیکن ہم مسلمان، عید الاضحی کے موقع پر جو جانوروں کی قربانی دیتے ہیں وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی وجہ سے ہے جس کو حضرت ابراہیم علیہ السلام دینے کو تیار تھے۔ دیگر مذاہب کے لوگ اس قربانی کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کی یاد سے وابستہ کرتے ہیں جبکہ اصل وجہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی ہے۔

تحریر: اریبہ عامر / تصاویر: آئمہ صدیقی

Print Friendly, PDF & Email

مزید دلچسپ مضامین