ختمِ نبوت: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آخری نبی
اسلام

ختمِ نبوت: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آخری نبی

اسلامی اصطلاح میں ختمِ نبوت کا مفہوم یہ ہے کہ نبیوں کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے چلتا ہوا آ رہا ہے، جس میں ایک کے بعد ایک کئی نبی اور رسول آئے، کچھ پر آسمانی کتابیں اتاری گئی، کچھ پر صحیفے نازل کئے گئے اور کچھ اپنے سے پہلے انبیاء کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوئے۔ پہلے نبی، حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا یہ سلسلہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر آ کر تکمیل کو پہنچتا ہے۔

ختمِ نبوت: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آخری نبی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی جانب سے بھیجے ہوئے ہمارے آخری نبی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید نازل ہوا جو جامع علم والی آخری آسمانی کتاب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دین اسلام مکمل کیا گیا اور ان کو ہمیشہ رہنے والی شریعت عطا کی گئی۔

اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں زیاں کاروں سے ہے۔

سورة آل عمران آیت 85

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل کردہ دین، شریعت، اور آسمانی کتاب نے پچھلی تمام باتوں کو منسوخ کر دیا۔ تمام پچھلی آسمانی کتابوں کی تعلیمات منسوخ ہو گئی۔ پرانے مذاہب بھی ترک کر دئیے گئے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور ان کے بعد اب کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔

ختمِ نبوت کے چند اہم نکات

اللہ تعالی نے اس دنیا میں بسنے والے تمام تر انسانوں کے لئے نبی یا رسول بھیجے لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کے بعد، قیامت تک ہر قسم کی قوم اور ہر قسم کے دور کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کافی ہیں اور ان ہی کی رسالت عام ہے۔

اللہ تعالی نے جو دین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا اس کو ان پر ہی مکمل کر دیا۔ اسلام ایک کامل ترین دین ہے جو جامع تعلیمات کا مالک ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی اور دین کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ اس کی تکمیل کا ذکر اللہ خود قرآن مجید کی اس آیت میں فرماتا ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر خطبہ حج الوداع کے موقع پر وحید کے ذریعے نازل ہوئی۔

آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔

سورة المائدة آیت 3

اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کتاب نازل فرمائی، قرآن مجید، اس کی حفاظت کا وعدہ خود کیا۔ قرآن مجید میں اللہ پافرماتا ہے

بےشک یہ (کتاب) نصیحت ہمیں نے اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔

سورة الحجر آیت 9

اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قیامت تک کوئی اوردوسری کتاب نہیں آئے گی اور نہ ہی قرآن مجید میں کسی قسم کی ردوبدل ہو سکتی ہے کیونکہ اللہ خود اس کا نگہبان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک چودہ سو سال گزرنے کے باوجود بھی یہ کتا پوری طرح سے محفوظ ہے اور اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔

ختمِ نبوت قرآن اور احادیث کی روشنی میں

اللہ تعالی قرآن مجید میں بہت صاف الفاظ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا بتاتے ہیں۔ قرآن میں فرمایا

محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

سورة الأحزاب آیت 40

قرآن میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لفظ، خاتم النبین استعمال ہوا ہے، جس کے معنی ہیں انبیاء میں سے آخری نبی۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

تمہیں مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون علیہ السلام کو موسی علیہ السلام سے تھی۔ فرق اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔

صحیح بخاری، صحیح مسلم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

رسالت اور نبوت تو ختم ہو چکی میرے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ یہ بات صحابہ پر شاق گزری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مبشرات باقی ہیں۔ صحابہ نے دریافت کیا مبشرات کیا ہیں، فرمایا مسلمان کا خواب اور وہ نبوت کے حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔

جامع ترمذی

ایک اور جگہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو واضح کیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے۔

جامع ترمذی

یہ بات ہر مسلمان کا ا ایمان ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی آخرالزماں ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام انبیاء کی تعلیمات کسی خاص قوم پر نازل کی گئی۔ کسی مخصوص دور کے لیے بتائی گئی۔ لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات قیامت تک کے تمام دور، تمام قوموں پر لاگو ہوتی ہیں۔ کسی بھی بشر کی جانب سے نبی ہونے کا اعتراف غلط ہے۔ ایک حدیث مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا

بنی اسرائیل کی رہنمائی انبیاء کرام کیا کرتے تھے۔ جب ایک نبی وفات پا جاتا تو دوسرا اس کا جان نشین ہوتا۔ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

اسی وجہ سے تمام صحابہ کرام کا اس بات پر اجماع تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا اور اس ہی وجہ سے خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں جن لوگوں نے نبوت کا دعوی کیا تھا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف جہاد کیا اور ایسے لوگوں کے سرکشی کے ارادے مسترد کر دئیے۔

نمایاں تصویر: ویکی میڈیا کامنس

Print Friendly, PDF & Email

مزید دلچسپ مضامین