لکشدیپ
حالاتِ حاضر

لکشدیپ میں قوانین کی غلط تجاویز پر آزردگی

لکشدیپ

لکشدیپ چھتیس جزیروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا علاقہ ہے جو کہ بھارت کا حصہ ہے۔ یہاں کثیر آبادی مسلمانوں کی ہے جن کا پیشہ ماہی گیری ہے۔ کاوراتی تمام جزائر میں سے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہے جہاں درجنوں مساجد تعمیر کی گئی ہیں۔

تاریخ

لکشدیپ کے جزائر کا ذکر پہلی صدی عیسوی میں ایک یونانی ملاح نے کیا تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کی تبلیغی سرگرمیوں اور عرب تاجروں سے رابطے کے بعد، تمام جزائر کے باشندوں نے اسلام قبول کر لیا۔

سن 1100ء سے کچھ عرصہ پہلے، مالابار ساحل پر ایک چھوٹی سی ہندو ریاست نے لکشدیپ پر قبضہ کر لیا اور سن 1102ء میں کیرالہ کے کلشیکھر خاندان کے زوال کے بعد وہ ایک اور چھوٹے سے ہندو خاندان کولاتھیریوں میں منتقل ہو گئے۔ بعد ازاں بارہویں صدی عیسوی میں کولاتھیری کی ایک شہزادی نے، مذہب تبدیل کر کہ اسلام قبول کرنے والے، ایک مسلمان سے شادی کرنے کے بعد کیرالہ کے کنور علاقے میں ایک علیحدہ ریاست (بشمول وہ جزائر جن سے آخر کار لکشدیپ تشکیل ہوا) قائم کی گئی تاکہ ماترینال نژاد کیرالہ کی روایت محفوظ رہے۔

انتظامیہ

لکشدیپ کے امور، صدر کے ایجنٹ کے زیر حکم ہوتے ہیں جو کہ منتظم، چیف کمشنر یا لیفٹینینٹ گورنر ہو سکتا ہے۔ یہ عہدہ عام طور پر آئی اے ایس افسران یا ریٹائرڈ آئی پی ایس افسران کے پاس ہوتا ہے جیسا کہ انٹیلیجنس بیورو کے سابق ڈائریکٹر دنیشور شرما تھے جو دسمبر میں انتقال کر گئے۔ عموماً منتظم لکشدیپ، پارلیمنٹ کے رکن کے ساتھ رابطے میں کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، ضلعی پنچایت کے کارکنان بھی انتظامی امور میں حصہ لیتے ہیں۔

موجودہ حالات

لکشدیپ کے حالیہ منتظم، شری پرافل پٹیل، سول سروسز سے تعلق نہیں رکھتے۔ پٹیل صاحب نے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے مقامی رکن پارلیمنٹ، محمد فیضل کے ساتھ کام کرنے سے انکار کردیا۔ ان کے زیر انتظام، جزیرے کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔

تقرری کے آغاز سے ہی، شری پرافل پٹیل صاحب نے کووڈ-19 وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظر ہونے والے لاک ڈاؤن کے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) میں نرمی کی جس کے مطابق کوئی بھی شخص جس میں کووڈ ٹیسٹ کے ذریعے وا‏ئرس کی تشخیس نہیں ہوئی، وہ اگلے اڑتالیس گھنٹوں تک دوبارہ ٹیسٹ کروائے بغیر جزیرے میں داخل ہو سکتا ہے۔ اس وجہ سے کووڈ کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔ جہاں پہلے ایک بھی مریض سامنے نہیں آیا تھا، وہاں اب تک کے مطابق پانچ سو افراد اس وبا کا شکار ہو چکے ہیں۔ اسی وجہ سے اموات کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

مزید یہ کہ حکومت اس جرائم سے پاک جزیرے میں گوندا ایکٹ نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کے باعث شہریوں کو کسی آزما‏ئش کے بغیر قید کیا جا سکے گا۔ ایک اور مسئلہ اینٹی سوشل ایکٹیویٹیز ایکٹ کی روک تھام کا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت کسی شخص کو ایک سال تک کے لئے کسی عوامی انکشاف کے بغیر حراست میں لیا جاسکے گا۔ جب لکشدیپ کی  نرسوں نے کم تنخواہ ہونے پر ہڑتال کی، تو ان کو صفائی کا موقع دیے بغیر حراست میں لے لیا گیا۔

ثقافت کی آڑ میں پٹیل صاحب لکشدیپ میں مسلم اکثریتی جزائر میں شراب کی فروخت عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ جانوروں کے تحفظ کے ضابطے، 2021 کے تحت مرغی اور گائے کا گوشت کھانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ انہوں نے ماہرین کی رائے سے کیا۔

یہ سب اقدامات مسلم اکثریت جزائر میں کیے گئے ہیں۔

میڈیا کا کردار

لکشدیپ کے ان مسائل پر ابھی تک مین سٹریم میڈیا نے آواز نہیں اٹھائی۔ سب کچھ جانتے ہوئے بھی مین سٹریم ‎میڈیا لکشدیپ کی عوام کی آواز نہیں بن رہا اور خاموش ہے۔

اس اثنا میں ہم سوشل میڈیا کے ذریعے لکشدیپ کے لوگوں کی آواز بن سکتے ہیں اور ان پر ہونے والی زیادتیوں کو منظر عام پر لا کر، مسلم مخالف ہندو ذہنیت کو فاش کر سکتے ہیں۔

نمایاں تصویر: لکشدیپ

Print Friendly, PDF & Email

مزید دلچسپ مضامین