متاثر کن مسلم خاتون: ام کلثوم بنت محمد رضی اللہ عنہا
تاریخ

متاثر کن مسلم خاتون: ام کلثوم بنت محمد رضی اللہ عنہا

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیوں کی زندگیوں کے بارے میں سلسلہ جاری رکھتے ہوئے آج ہم حضرت ام کلثوم بنت محمد رضی اللہ عنہا کی زندگی کے بارے میں بات کریں گے۔

حضرت ام کلثوم بنت محمد رضی اللہ عنہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی تیسری بیٹی تھیں۔ وہ 603 عیسوی میں پیدا ہوئیں اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے ایک سال چھوٹی تھیں۔

حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی ابتدائی طور پر ابو لہب کے بیٹوں میں سے ایک، عتیبہ سے ہوئی تھی۔اسلام سے دشمنی کی وجہ سے ابو لہب نے عتیبہ کو حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو چھوڑنے پر مجبور کیا۔

طلاق کے بعد حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا اپنے والد حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہنے کے لیے واپس چلی گئیں۔ کئی سال تک وہ اپنی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ زندگی کا بوجھ اٹھاتے ہوئے گھر میں رہیں۔

اس دوران اہل قریش نے معاشی اور سماجی سرحد، دونوں پر مسلمانوں کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مسلمانوں کو بہت سی مصیبتیں اٹھانا پڑی اور سماجی و اقتصادی بائیکاٹ کی وجہ سے بعض کو درختوں کے پتے بھی کھانے پر مجبور ہونا پڑا۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بائیکاٹ کے خاتمے کے کچھ ہی عرصے بعد انتقال کر گئیں۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی والدہ کی موت نے ان کے دل کو غم سے بھر دیا، لیکن حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے اپنے آپ کو پختہ انداز میں سنبھالے رکھا، کیونکہ اپنی والدہ کی عدم موجودگی میں انہیں پورے گھر کے ساتھ ساتھ اپنی چھوٹی بہن حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی دیکھ بھال کرنی پڑتی تھی۔

سن 622ء میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مکہ سے روانہ ہو کر مدینہ ہجرت کر گئے اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زید بن حارث رضی اللہ عنہ کو اپنی بیٹیوں حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو مدینہ لانے کے لیے بھیجا۔

مدینہ میں مسلمانوں کی زندگی نسبتاََ بہتر تھی۔ مدینہ میں ہی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح کا مشاہدہ کیا۔ بدقسمتی سے جنگ کے دوران ہی انہیں اپنی بڑی بہن حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے انتقال کی افسوس ناک خبر ملی۔

حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ  سے سال 03 ھ (624عیسوی) میں ہوئی۔ اس کے نتیجے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دھو النورین (دو روشنیوں کا مالک) کا خطاب حاصل کیا کیونکہ انہوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دو بیٹیوں سے شادی کی تھی۔

حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا اپنے شوہر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ چھ سال تک رہیں لیکن یہ شادی بے اولاد رہی۔ انہوں نے اسلام کے عروج کے دوران کئی مراحل دیکھے- سماجی و اقتصادی بائیکاٹ اور مکہ میں درپیش مشکلات، مدینہ کی ہجرت اور سال 08 ھ (629عیسوی) میں مکہ کی شاندار فتح۔

وہ انتیس سال کی عمر میں شابان 09 ہجری (نومبر/ دسمبر 630 عیسوی) میں انتقال کر گئیں۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آنسوؤں کے ساتھ ان کی نماز جنازہ ادا کی اور انہیں ان کی بہن حضرت رقیہ بنت محمد رضی اللہ عنہا کی قبر کے پاس سپرد خاک کر دیا گیا۔

مزید پڑھنا چاہتے ہیں؟ اس سلسلے کے دیگر حصوں کا مطالعہ کریں

حضرت زینب رضی اللہ عنہا

حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا

حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا

نمایاں تصویر: متاثر کن مسلم خاتون: ام کلثوم بنت محمد رضی اللہ عنہا

Print Friendly, PDF & Email

مزید دلچسپ مضامین