قرآن مجید کی صفات
اسلام

قرآن مجید کی صفات

قرآن مجید اللہ تعالٰی کی طرف سے نازل کردہ چار آسمانی کتابوں میں سے آخری کتاب ہے۔ جس کو اللہ نے اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل فرمایا۔

تعارف قرآن

قرآن مجید تئیس سال کے عرصے میں حالات اور ضروریات کے پیش نظر نازل ہوا۔ نہایت ہی عمدہ اور مقدس کتاب ہے۔ جس میں قیامت تک رہنے والے تمام تر انسانوں کے لئے ہدایت ہے۔ قرآن مجید کے نزول سے پہلے تین آسمانی کتابیں، تورات، زبور، اور انجیل جو دیگر رسولوں پر نازل ہوئیں۔ اس کے علاوہ کئی صحیفے بھی ہیں جو دوسرے پیغمبروں پر نازل کئے گئے۔

وہ بات جو قرآن مجید کو دوسری آسمانی کتابوں سے مختلف بناتی ہے وہ یہ ہے کہ تمام کتابوں میں بنیادی تعلیمات مثلاً توحید، شرک، اخلاق و عبادات سے متعلق احکامات مشترک ہیں، لیکن یہ سب ایک خاص دور کے لئے تھیں۔ قرآن مجید ایک ایسی جامع کتاب ہے جو زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی کرتی ہے اور اس کی یہ رہنمائی کسی خاص وقت اور قوم کے لئے نہیں بلکہ قیامت تک کی تمام دنیائے انسانیت کے لئے ہے۔

قرآن مجید کے اسماء

قرآن مجید کے چند ایسے نام ہیں جو خود آیاتِ قرآنیہ سے ماخوذ ہیں۔ جن میں سے کچھ نام یہ ہیں

الکتاب: دنیا کی تمام کتابوں میں کتاب کہلانے کی مستحق کتاب۔

الفرقان: سچ اور جھوٹ میں فرق کرنے والی کتاب۔

نور: روشنی اور ہدایت دکھانے والی کتاب۔

شفاء: روحانی شفاء اور پیغامِ صحت کی کتاب۔

تذکرہ: عبرت و نصیحت کا سامان رکھنے والی کتاب

العلم: یہ کتاب سراپا علم و معرفت ہے۔

البیان: اس کتاب کی ہر تعلیم وضاحت پیش کرتی ہے۔

قرآن مجید کی سورتوں کی خصوصیات

قرآن پاک میں مکمل ایک سو چودہ سورتیں ہیں جو حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یا تو مکہ مکرمہ میں نازل ہوئیں یا پھر مدینہ منورہ میں۔

پہلی اور آخری وحی

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک جب چالیس برس تھی تب تو ان پر قرآن مجید کا نزول شروع ہوا۔ ایک بار جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار حرا میں مصروف عبادت تھے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام غار حرا کے دہانے تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پہلی وحی نازل فرمائی جو کہ سورہ علق کی پہلی پانچ آیات ہیں۔

(اے محمدﷺ) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا۔ پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا۔ اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا۔

سورة العلق آیت 1-5

خطبہ حجتہ الوداع میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنی بڑی تعداد میں مسلمانوں کو آخری بار خطاب فرمایا۔ اس کے بعد آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آخری وحی نازل ہوئی جس میں دین کے مکمل ہونے کا اعلان ہوا۔ آخری وحی سورہ مائدہ کی یہ آیت تھی۔

(اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔

سورة المائدة آیت 3

مکی سورتوں کی خصوصیات

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبوت کے بعد مکہ میں تیرہ سال بسر کیے اور اس عرصے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت مشکل وقت گزارا کیونکہ لوگ ان کے مخالف بن گئے جب انہوں نے سب کو دعوت اسلام کی طرف لانا چاہا۔ ان لوگوں کو توحید کی دعوت گورا نہیں ہوئی کیونکہ وہ شرک کی بیماری میں مبتلا تھے۔ چنانچہ اس مخالفت میں وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو طرح طرح سے اذیت پہنچاتے تھے۔ اس دور میں قرآن مجید کا جو حصہ نازل ہوا اس میں آپ کو صبر کی تلقین کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی مکی سورتوں میں توحید و رسالت اور آخرت کے مضامین بھی بیان کئے گئے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں تیرہ برس گزارنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کر گئے۔

مدنی سورتوں کی خصوصیات

ہجرت کے بعد جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو صورتِ حال مختلف تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل ہی دعوتِ حق یہاں پہنچ گئی تھی۔ اس دوران نئی ضروریات کے پیش نظر جو سورتیں نازل ہوئیں ان میں معاشرتی، معاشی، سیاسی قسم کے مسائل کے ساتھ اللہ تعالٰی کی راہ میں مال خرچ کرنے کی فضیلت، عدل و احسان کا حکم، تجارت میں لیں دیں کے احکام اور جہاد کی فرضیت کا حکم نازل ہوا۔ عبادات میں روزہ، زکو’ت اور حج بھی فرض ہوا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں دس سال گزارے۔

قرآن مجید کی حفاظت

اللہ تعالٰی نے قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ تاقیامت یہ کتاب بحفاظت رہے گی۔ اللہ پاک قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ

بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔

سورة الحجر آیت 9

نمایاں تصویر: پکسلز

Print Friendly, PDF & Email

مزید دلچسپ مضامین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *