شرک: سب سے زیادہ بھاری گناہ
اسلام

شرک: سب سے زیادہ بھاری گناہ

انسان کے لئے سب سے پہلے عقیدہ جس کو ماننے کا حکم اللہ نے اسے دیا ہے، وہ عقیدہ توحید ہے۔ اس دنیا میں بھیجے جانے والے پہلے نبی اور انسان پر بھی عقیدہ توحید پر ایمان لانا لازم تھا اور یہ حکم قیامت تک رہنے والے تمام تر جانداروں پر لاگو ہوتا ہے۔

شرک: سب سے بھاری ظلم

اسلام میں شرک سے مراد اللہ کی ذات، اس کی صفات، یا اس کی صفات کے تقاضوں میں کسی کو حصہ دار ٹھہرانا۔

شرک کا پھیلاؤ

جیسے جیسے دنیا کی آبادی میں اضافہ ہوتا گیا انسان اِدھر اُدھر بھٹکنا شروع ہو گئے اور انہوں نے اپنے ایک خدا کی ذات کے ساتھ اور چیزوں کو شریک ٹھہرانا شروع کر دیا۔ لوگوں نے سچے راستے کو بھلا کر گمراہی کی راہ تھام لی اور اپنے پاس سے کئی خدا گھڑ لئے۔ نئے خدا بنانے کی وجوہات بھی دینا شروع کر دی۔ لوگوں نے جس شہ سے خوف کھایا اس کو خدا مان لیا اور اس کی عبادت شروع کر دی جیسا کہ آگ، سمندر، آندھی وغیرہ۔ جس چیز سے فائدہ اٹھایا اسے بھی اللہ کی ذات کے ساتھ شریک ٹھہرا دیا جیسا کہ جانور، گائے وغیرہ۔

ایسے ہی لوگوں کی ہدایت کے لئے اللہ پاک نے کئی پیغمبروں کو دنیا میں بھیجا جو ان لوگوں کی صحیح رہنمائی کر سکیں۔ اللہ تعالی قرآن مجید میں شرک کی مذمت کرتے ہوئے فرماتا ہے

شرک تو بڑا (بھاری) ظلم ہے۔

سورة لقمان آیت 13

اللہ تعالی نے قرآن میں صاف الفاظ میں لوگوں خو انتباہ کیا ہے کہ وہ اگر چاہیے تو کسی بھی قسم کے گناہ کو معاف فرما دے گا لیکن شرک کی کوئی معافی نہیں ہے۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا

خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کردے اور جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا۔

سورة النساء آیت 48

شرک کی اقسام

شرک تین طرح سے کیا جا سکتا ہے۔

شرک فی الذات

اس قسم کا شکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ کی حقیقت میں کسی خو شریک ٹھہرایا جائے۔ اللہ کو جس طرح سے خدا مانا جاتا ہے ویسی ہی حقیقت کسی اور کے ساتھ منسلک کر کہ اس کو بھی خدا تصور کرنا ذات میں شرک ٹھہرانا ہے۔ اس کو ایسے بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ اللہ کو کسی کی اولاد سمجھنا یا پھر کسی کو اللہ کی اولاد سمجھنا۔ جس طرح دو یا تین خداوں کو ماننا شرک ہے اسی طرح اللہ کو بھی کسی کا بیٹا ماننا شرک ہے۔ اللہ قرآن مجید میں فرماتا ہے

نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔

سورة الإخلاص آیت 3،4

شرک فی الصفات

صفات میں شرک سے مراد یہ ہے کہ اللہ میں پائی جانے والی صفات کسی دوسرے میں بھی تصور کرنا۔ اللہ کے پاس جیسا علم اور قدرت ہے وہ نہ کسی کہ پاس کبھی تھا اور نہ ہی کبھی ہو سکتا ہے۔ وہ اکیلا ہی قادرِ متعلق ہے اور ازل تا ابد تک قائم و دائم رہنے والا ہے اور اس بات میں کسی کو شریک ٹھہرانا محض شرک ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے

آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا (وہی ہے)۔ اسی نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کے جوڑے بنائے اور چارپایوں کے بھی جوڑے (بنائے اور) اسی طریق پر تم کو پھیلاتا رہتا ہے۔ اس جیسی کوئی چیز نہیں۔ اور وہ دیکھتا سنتا ہے

سورة الشورى آیت 11

دنیا کی تمام تر مخلوقات اللہ کی ذات کی محتاج ہیں۔ جو صفات ان کے پاس ہیں وہ اللہ ہی کی عطا کردہ ہیں۔ لیکن وہ تمام صفات جو اللہ کے پاس ہیں وہ سب اس کی ذاتی ہیں، کسی اور کی عطا کردہ نہیں ہیں۔

صفات کے تقاضوں میں شرک

اللہ تعالی ایک کامل ترین ذات کا مالک ہے جو اور کسی کہ پاس نہیں۔ اللہ کی صفات کا تقاضہ یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے، اسی کہ آگے جھکا جائے، صرف اسی کے سامنے اپنی مشکلات بیان کی جائیں اور اسی سے مانگا جائے۔ انسان کی اطاعت، محبت اور عبادت کا حقدار صرف خدا ہے جس نے اسے پیدا کیا اور سب کچھ عطا کیا۔ اللہ کی صفات کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ اسی کی ذات کو اصل حقیقی مالک مانا جائے اور اس کے ہی بنائے ہوئے قوانین پر عمل پیرا ہوا جائے۔

اللہ پاک قرآن مجید میں خود فرماتا ہے

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔

 سورة الإسراء آیت 23

ایک اور جگہ اللہ نے ارشاد فرمایا

اور (لوگو) تمہارا معبود خدائے واحد ہے اس بڑے مہربان (اور) رحم کرنے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

سورة البقرة آیت 163

اللہ نے اپنے احکامات پر عمل پیرا نہ ہونے والے لوگوں کو سخت عذاب کی بعید کی اور ان کو دینِ اسلام سے خارج قرار دیا۔

اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں۔

سورة المائدة آیت 44

اللہ قرآن مجید میں انسان کو بظاہر کہتا ہے کہ تمام جہانوں میں صرف اس کا ہی حکم چل سکتا ہے۔

اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔

سورة يوسف آیت 40

ایک اچھے مسلمان کا فرض

انسان کو چاہیے کہ وہ صرف اللہ کی ذات کو ہی حقیقی مالک تسلیم کرے اور سچے دل سے اس کا حکم بجا لائے۔ اس کی دی ہوئی تمام نعمتوں کا شکر ادا کرے اور محض زبان سے ہی شکر ادا کر دینا کافی نہیں ہوتا بلکہ عملی طور پر، عبادت کے ذریعے خدا کو اس بات کا یقین دلایا جائے کہ اس کا بندہ اپنے رب سے کسی قدر محبت کرتا ہے۔ اس سارے عمل میں کبھی بھی کسی کو بھی اللہ کا شریک نہ بنایا جائے کیونکہ ایسا کر کے ہم اپنے کئے دنیا اور آخرت دونوں میں مشکلات پیدا کر لیں گے۔

ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ شرک محض یہی نہیں ہے کہ کسی بھی چیز یا انسان کی عبادت کی جائے بلکہ اپنی کسی بھی چھوٹی بڑی حاجت کو پورا کرنے کے لیے اللہ کے سوا کسی اور سے امید رکھنا بھی شرک میں شمار ہوتا ہے۔ اللہ، لوگوں کو وسیلہ لازمی بناتا ہے لیکن مانگا صرف خدا سے جائے پھر وہ بے شک جس طریقے سے بھی ہمارا کام بنا دے۔

کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو زبانی تو اللہ کے ایک ہونے کا اقرار کرتے ہیں لیکن اپنی مجبوریوں، مشکلات کو لوگوں کے آگے اس عاجزی سے بیان کرتے ہیں جیسے ان کو وہیں سے اپنی مراد پوری ہوتی نظر آتی ہو، لہذا ایسا کرنا بھی شرک کے جس سے اللہ نے سختی سے منا فرمایا ہے۔

قرآن مجید میں اللہ، ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے

اور انہوں نے خدا کے سوا (اور) معبود بنا لیے ہیں کہ شاید (ان سے) ان کو مدد پہنچے۔ (مگر) وہ ان کی مدد کی (ہرگز) طاقت نہیں رکھتے۔ اور وہ ان کی فوج ہو کر حاضر کیے جائیں گے۔

سورة يس آیت 75

ایک اور جگہ فرمایا

بھلا اگر وہ اپنا رزق بند کرلے تو کون ہے جو تم کو رزق دے؟ لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں۔

سورة الملك آیت 21

اللہ ہم سب کو شرک جیسے بھاری ظلم سے بچائے۔ آمین۔

نمایاں تصویر: ویکی میڈیا کامنس

Print Friendly, PDF & Email

مزید دلچسپ مضامین