تدوینِ حدیث اور اس کی حفاظت
اسلام

تدوینِ حدیث اور اس کی حفاظت

قرآن مجید جو دین کی تمام بنیادی تعلیمات پر مشتمل اور جملہ عقائد و احکام کے متعلق کل ہدایت کا حامل ہے۔ اس کا ہر لفظ لوگوں نے زبانی یاد کیا ہوا ہے۔ مزید احتیاط کے لئے معتبر کاتبوں سے خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو لکھوایا۔

حدیث کی حفاظت

حدیث شریف جو شرع اسلامی کی تمام اعتقادی اور عملی تفصیلات پر حاوی ہے۔ اس کا قولی حصہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اپنی قومی عادت اور رواج کے مطابق اس سے بھی زیادہ اہتمام کے ساتھ اپنے حافظہ میں رکھا کہ جس اہتمام کے ساتھ وہ اس سے پہلے اپنے خطیبوں کے خطبے، شاعروں کے قصیدے، اور حکماء کے مقولے یاد رکھا کرتے تھے اور اس کے عملی حصے کے مطابق فوراً عمل کرنا شروع کر دیا کرتے تھے۔

خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی متعدد مواقع پر ضروری احکام و ہدایات قلم بند کروائی۔ ان تحریروں اور نوشتوں کا ذکر معتبر کتب حدیث میں محفوظ ہے۔ لیکن ان کے علاوہ مختلف قبائل کو تحریری ہدایات، خطوط کے جوابات، مدینہ منورہ کی مردم شماری کے کاغذات، سلاطین وقت اور مشہور فرمانروائوں کے نام اسلام کے دعوت نامے، معاہدات، امان نامے، اور اس قسم کی بہت سی متفرق تحریرات تھیں جو حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وقتاً فوقتاً قلم بند کروائیں۔

یہ بات مشہور ہے کہ غزوہ بدر کے بعد کافی مسلمانوں نے لکھنا سیکھ لیا اور پھر کتابتِ حدیث کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ اگرچہ عرب قوم اسلام سے قبل اَن پڑھ تھی اور ان میں کسی قسم کی تعلیم کا رواج نہیں تھا لیکن ایمان اور اسلام کی بدولت صحابہ میں یہ شوق پیدا ہوا۔

تدوینِ حدیث

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بعض صحابہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں احادیث لکھی تھیں۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ احادیث کو لکھنے کا حکم خود بھی دیا تھا۔ یہ حقیقت خوب واضح ہے کہ تدوین حدیث کا آغاز عہد رسالت ہی میں ہو گیا تھا۔ اسلام کے ابتدائی عہد میں احادیث نبوی پر مشتمل صحیفے لکھے گئے جن کا تاریخی ثبوت موجود ہے۔ ان صحیفوں میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاض رضی اللہ عنہ کا صحیفہ صادقہ بہت مشہور ہے۔ اور اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کا صحیفہ بھی تھا جس میں بہت سے احکام و مسائل درج تھے مگر اس سلسلے میں سب سے بڑی اہمیت صحیفہ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہے جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے عزیز شاگرد حضرت ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے۔ یہ صحیفہ تدوین حدیث کے سلسلے میں اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ یہ بالکل ویسے ہی آگے پہنچایا گیا جس طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا۔ یہ صحیفہ مسند امام احمد میں مکمل طور پر محفوظ ہے۔ نیز اس کی بیشتر احادیث صحیح بخاری کے متعلقہ ابواب میں بھی موجود ہیں۔

تدوین حدیث کا دورِ ثانی

اہل عرب ہر چیز کو زبانی یاد رکھنے کے عادی تھے کیونکہ ان کا حافظہ فطرتاً نہایت قوی تھا۔ احادیث کو زبانی یاد رکھنے کا سلسلہ پہلی صدی ہجری تک چلتا رہا لیکن اس صدی کے آخری سالوں میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا دنیا سے رخصت ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔  سن 99 ہجری میں جب خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے دیکھا کہ متبرک صحابہ سے دنیا خالی ہو رہی ہے تو آپ کو اندیشہ ہوا کہ ان حفاظ اہل علم کے جانے سے کہیں علوم حدیث نہ اٹھ جائے۔ چنانچہ آپ نے فوراً تمام ممالک کے علماء کے نام ایک فرمان جاری کیا کہ احادیث نبوی کی تلاش کر کے جمع کر لیا جائے۔ پس اس حکم کی تعمیل میں کوفہ کے امام شبعی رحمتہ اللہ علیہ، مدینہ کے امام زہری رحمتہ اللہ علیہ اور شام کے امام مکحول رحمتہ اللہ علیہ کی تصانیف وجود میں آئیں اور وہ اس عہد خلافت کی یادگار رہیں۔ اس طرح پہلی صدی کے آخر میں کبارائمہ تابعین نے جمع تدوین و حدیث میں بھرپور حصہ لیا۔

دوسری صدی ہجری میں اس سلسلے کی ترقی اتنی زیادہ ہوئی کہ احادیث کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام اور اہل بیت کے آثار تابعین کے فتاوی اور اقوال بھی مرتب ہونے لگے۔ اس صدی میں فقہ حنفی اور فقہ مالکی کی تدوین ان احادیث و آثار کی روشنی میں مکمل ہوئی کہ جس پر صحابہ اور تابعین کا عمل درآمد چلا آ رہا ہے۔

تدوین حدیث کا دورِ ثالث

تیسری صدی ہجری میں علم حدیث کا ایک شعبہ پایہ تکمیل کو پہنچا۔ محدثین نے طلبِ حدیث میں دنیائے اسلام کا گوشہ گوشہ چھان مارا اور تمام منتشر اور بکھری روایات کو یکجا کیا۔ مستند احادیث علیحدہ کیں۔ صحت سند کا التزام کیا گیا۔ اسماء الرجال کی تدوین ہوئی۔ جرح و تعدیل کا مستقل فن بن گیا۔ اس دور میں صحاح ستہ جیسی بیش بہا کتابیں تصنیف ہوئیں۔ صحاح ستہ اور ان کے مولفین بھی منظر عام پر آئے۔

صحاح ستہ کے علاوہ اصول اربعہ جو کہ فقہ جعفریہ کی چار مستند ترین ذخائر کی کتابیں ہیں۔ جن میں الکافی، من لایحضرہ الفقیہہ، الاستبصار اور تہذیب الاحکام شامل ہیں۔

نمایاں تصویر: اسلامی سٹی

Print Friendly, PDF & Email

مزید دلچسپ مضامین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *